چنتامنی:19 /دسمبر(محمد اسلم/ایس او نیوز)تعلقہ کے کیوار سرکاری اسکول کے 8ویں جماعت کے طلباء طالبات میں حکومت سے فراہم کی گئی سائیکلوں کو رُکن اسمبلی جے کے کرشناریڈی نے تقسیم کیا بعد اسکول کے احاطے منعقد جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علم حاصل کرنا ہر ایک بچے کے لئے لازم ایک زمانہ تھاکہ علم چند گنے چنے افرادتک ہی محدود تھا لیکن آج نہ وہ زمانہ رہا اور نہ ہی علم پر کسی ایک طبقے یا فرقے کی اجاراداری ہے جس طرح دنیا ترقی کرتے گئے اس بات سے کسی کا انکار نہیں ہے علم ہی ترقی کا زینہ ہے آج کے اس ترقی یافتہ دور میں علم سے محروم بدبختی کی نشانی ہے ۔کرشناریڈی نے والدین کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ بچے مستقبل کے معمارہوتے ہیں یعنی انہیں بچوں کے کندھوں پر آنے والے کل کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں عموماََہر والدین کی چاہ ہوتی ہے کہ ان کا بچہ بڑاہوکر بڑاآدمی بنے والدین اپنے بچوں کو ڈاکٹر انجنئیر ،سائنسدان ،یا اونچے عہدے پر فائز آفیسر بنانا چاہتے ہیں ہر والدین بچوں کے بہتر اور اچھے مستقبل کے خواہاں ہوتے ہیں اپنے نونہالوں کے لئے صرف خواب دیکھنا کافی نہیں ہوتا ہے اسکے لئے والدین کا اخلاقی فرض بنتا ہے کہ اپنے خوابوں کی تعبیر کے لئے بچوں کی صحیح رہنمائی کریں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ بچے اسکول میں حاصل کردہ سبق کو دوسرے دن یاد نہیں رکھ پاتے ہیں اس کے لئے بچے نہیں بلکہ والدین ذمہ دار ہوتے ہیں وہ اس لئے کہ جب بچہ اسکول سے گھر جاتا ہے تو والدین بچے سے اتنے مانوس ہوجاتے ہیں کہ انہیں احساس ہی نہیں ہوتا ہے کہ بچے کو اسکول سبق یاد دلایا ۔کرشناریڈی نے کہا کہ جس طرح علم انسان کو حسن اخلاق سکھاتا ہے اسی طرح ہنر مندی جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے اگر کوئی بچہ ان دونوں کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو وہ نہ صرف اچھا شہری بننے گا بلکہ اپنے ملک نام روشن کرنے میں کسی بھی قسم کی کسر باقی نہیں رکھے گا۔کرشناریڈی نے مزید کہا کہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے حد مقرر کرنے کی بجائے طلبہ کو چاہئے کہ وہ تعلیم کو محدود تصور نہ کریں کیونکہ علم حاصل کرنے کے لئے حد مقرر کرنا بے قوفی کی دلیل ہے طالب علم حد نہیں بلکہ مقصد کو آگے رکھ کر تعلیم حاصل کرے ۔بعد کیوار گرام پنچایتی صدر شیلاجی منجوناتھ نے بھی تقرر کی اس موقع پر بی ای او محمد خلیل گرام پنچایتی رُکن دادا پیر گرام پنچایتی رُکن اما دیوی وی۔شاردہ،کے۔این۔شرنیواس ،ہیڈماسٹر شیو ریڈی بی۔وی۔شوبھا عائشہ خانم،شیوشنکر وغیرہ موجود رہے۔